(۲۵۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَۃُ بْنُ الأَحْنَفِ الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلاَمٍ: الأَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِیُّ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَشْعَرِیِّ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِأَصْحَابِہِ ، ثُمَّ جَلَسَ فِی طَائِفَۃٍ مِنْہُمْ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَامَ یُصَلِّی ، فَجَعَلَ لاَ یَرْکَعُ وَیَنْقُرُ فِی سُجُودِہِ ، وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَنْظُرُ إِلَیْہِ ، فَقَالَ: ((تَرَوْنَ ہَذَا لَوْ مَاتَ عَلَی ہَذَا مَاتَ عَلَی غَیْرِ مِلَّۃِ مُحَمَّدٍ ، یَنْقُرُ صَلاَتَہُ کَمَا یَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ ، إِنَّمَا مِثْلُ الَّذِی یُصَلِّی وَلاَ یَرْکَعُ وَیَنْقُرُ فِی سُجُودِہِ کَالْجَائِعِ لاَ یَأْکُلُ إِلاَّ تَمْرَۃً أَوْ تَمْرَتَیْنِ ، مَاذَا یُغْنِیَانِ عَنْہُ؟ فَأَسْبِغُوا الْوُضُوئَ ، وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، وَأَتِمُّوا الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ))۔
قَالَ أَبُو صَالِحٍ فَقُلْتُ لأَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَشْعَرِیِّ: مَنْ حَدَّثَکَ بِہَذَا الْحَدِیثَ؟ قَالَ: أُمَرَائُ الأَجْنَادِ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، وَشُرَحْبِیلُ ابْنُ حَسَنَۃَ ، وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ کُلُّ ہَؤُلاَئِ سَمِعَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ماجہ ۴۵۵]
(٢٥٧٣) (ا) ابو عبداللہ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، پھر ان میں سے ایک گروہ میں بیٹھ گئے۔ اس دوران ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا، لیکن وہ رکوع بھی صحیح نہیں کررہا تھا اور سجدوں میں بھی ٹھونگیں لگا رہا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ اسی حالت میں مرجائے تو ملت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور ملت پر اس کی موت ہوگی ۔ نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جس طرح کوّا خون میں ٹھونگیں مارتا ہے۔ اس شخص کی مثال جو اس طرح نماز پڑھتا ہے کہ اس میں نہ تو رکوع صحیح کرتا ہے بلکہ اپنے سجدوں میں (کوے کی طرح) ٹھونگیں مارتا ہے، اس بھوکے کی طرح ہے جو صرف ایک یا دو کھجوریں کھا سکے، وہ اس کو کیا کفایت کریں گی۔ لہٰذا اچھی طرح وضو کیا کرو۔ (خشک) ایڑیوں والوں کے لیے آگ کی وعید ہے، بربادی ہے اور رکوع و سجود بھی مکمل کیا کرو۔
(ب) ابو صالح کہتے ہیں : میں نے ابو عبداللہ اشعری سے پوچھا : آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : لشکروں کے سپہ سالاروں یعنی خالد بن ولید، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ اور یزید بن سفیان (رض) نے بیان کی ہے اور ان سب نے یہ حدیث رسول للہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔