(۲۶۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الظُّہْرِ فَآخُذُ قَبْضَۃً مِنَ الْحَصَی فِی کَفِّی حَتَّی تَبْرُدَ ، وَأَضَعُہَا بِجَبْہَتِی إِذَا سَجَدْتُ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَلَوْ جَازَ السُّجُودُ عَلَی ثَوْبٍ مُتَّصِلٍ بِہِ لَکَانَ ذَلِکَ أَسْہَلُ مِنْ تَبْرِیدِ الْحَصَا فِی الْکَفِّ ، وَوَضْعِہَا لِلسُّجُودِ عَلَیْہَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۱۴۰۹۸]
(٢٦٥٨) (ا) جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا۔ میں اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر کنکریاں پکڑ لیا کرتا تھا، تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں اور میں انھیں اپنے سجدہ کی جگہ پر رکھتا تھا تاکہ گرمی کی تپش سے بچتے ہوئے میں ان پر سجدہ کروں۔
(ب) امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اگر کسی ایسے کپڑے پر جو ساتھ ملا ہوتا (ہر) سجدہ کرنا جائز ہوتا تو یہ ہاتھوں میں کنکریاں ٹھنڈی کرنے سے اور اسی طرح ان کو مقام سجدہ پر رکھنے سے زیادہ آسان ہوتا۔