(۲۶۸۸) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَابْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ کَیْسَانَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ وَہْبِ بْنِ مَانُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: مَا صَلَّیْتُ وَرَائَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ ہَذَا الْفَتَی۔ یَعْنِی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ: فَحَزَرْنَا فِی رُکُوعِہِ عَشْرَ تَسْبِیحَاتٍ وَفِی سُجُودِہِ عَشْرَ تَسْبِیحَاتٍ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قُلْتُ لَہُ: مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ؟ قَالَ: أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَیَقُولُ مَابُوسٌ ، وَأَمَّا حِفْظِی فَمَانُوسٌ۔ وَہَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ قَالَ أَحْمَدُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ۔ [ضعیف]
(٢٦٨٨) (ا) وہب بن مانوس سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن جبیر کو فرماتے ہوئے سنا : حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد میں نے کسی کے پیچھے آپ جیسی نماز کے مشابہ نماز نہیں پڑھی سوائے اس نوجوان کے، وہ اس سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو مراد لے رہے تھے۔
فرماتے ہیں کہ ہم نے ان رکوع اور سجدوں میں دس دس تسبیحات پڑھنے (کے وقت کے برابر) کا اندازہ لگایا۔
(ب) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ احمد بن صالح (سند کے راوی ہیں) فرماتے ہیں : میں نے اس سے پوچھا کہ مانوس نام ہے یامابوس ؟ انھوں نے کہا کہ عبدالرزاق مابوس کہتے ہیں مگر میرے حافظے میں مانوس ہے۔