(۲۷۴۳) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ أَنَّہُ حَکَی عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ أَنَّہُ قَالَ: الإِقْعَائُ ہُوَ أَنْ یَلْصَقَ أَلْیَتَیْہِ بِالأَرْضِ ، وَیَنْتَصِبَ عَلَی سَاقَیْہِ ، وَیَضَعَ یَدَیْہِ بِالأَرْضِ۔
وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: الإِقْعَائُ جُلُوسُ الإِنْسَانِ عَلَی أَلْیَتَیْہِ نَاصِبًا فَخِذَیْہِ مِثْلَ إِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالسَّبُعِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا النَّوْعُ مِنَ الإِقْعَائِ غَیْرُ مَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ، وَہَذَا مَنْہِیٌّ عَنْہُ ، وَمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ ، وَأَمَّا حَدِیثُ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنْ عَقِبِ الشَّیْطَانِ ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ وَارِدًا فِی الْجُلُوسِ لِلتَّشَہُدِّ الأَخِیرِ فَلاَ یَکُونُ مُنَافِیًا لِمَا رُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ فِی الْجُلُوسِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح]
(٢٧٤٣) (ا) ابوعبیدہ سے منقول ہے کہ اقعاء کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین کو زمین پر رکھ لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرلے اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لے۔
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہو۔
(ج) شیخ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ اقعاء کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر (رض) کی روایات میں نقل کرچکے ہیں بلکہ یہاں پر جو اقعاء ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے منقول روایات میں ہے۔ وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شیطان کی چوکڑی سے منع کرتے تھے اور آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ آخری تشہد میں ہوں تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم