(۲۷۶۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ: حَمَّادُ بْنُ أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ قَائِمًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ عَلَی لَفْظِ حَدِیثِ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَابْنِ نُمَیْرٍ إِلاَّ أَنَّہُ أَحَالَہُ عَلَی رِوَایَۃِ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَلَمْ یَسُقِ الْمَتْنَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی السُّجُودَ الثَّانِیَ وَلاَ مَا بَعْدَہُ مِنَ الْقُعُودِ أَوِ الْقِیَامِ۔
وَالْقِیَامُ أَشْبَہُ بِمَا سِیقَ الْخَبَرُ لأَجْلِہِ مِنْ عَدِّ الأَرْکَانَ دُونِ السُّنَنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٧٦٧) (ا) ایک دوسری سند سے اسی جیسی روایت منقول ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ نے فرمایا : پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا بیٹھ جا۔
(ب) امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت ذکر کی ہے ؟
یحییٰ کی روایت میں دوسرے سجدے کا ذکر نہیں اور نہ ہی دوسرے سجدے کے بعد جلسہ استراحت کا ذکر ہے اور نہ قیام کا ذکر کیا ہے۔
(ج) اور قیام زیادہ مشابہ ہے۔ کیونکہ ارکان کو شمار کیا جا رہا ہے نہ کہ سنن کو (واللہ اعلم) ۔