(۲۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مَسْعَدَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَتَخَلَّفْتُ مَعَہُ ، فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَہُ قَالَ: أَمَعَکَ مَائٌ؟ ۔فَأَتَیْتُہُ بِمَطْہَرَۃٍ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ ، ثُمَّ ذَہَبَ یَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَیْہِ فَضَاقَ کُمُّ الْجُبَّۃِ ، فَأَخْرَجَ یَدَیْہِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ ، وَأَلْقَی الْجُبَّۃَ عَلَی مَنْکِبَیْہِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ ، وَعَلَی الْعِمَامَۃِ وَعَلَی خُفَّیْہِ ثُمَّ رَکِبَ۔أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ کَمَا تَقَدَّمَ ذِکْرِی لَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۷۴]
(٢٨٠) سیدنا مغیرہ بن شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کی وجہ سے جماعت سے پیچھے رہ گئے، میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی حاجت پوری کرلی تو فرمایا : ” کیا تیرے پاس پانی ہے ؟ “ میں پانی کا ایک برتن لے آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے چہرے کو دھویا، پھر اپنے بازؤ وں کو نکالنا شروع ہوئے تو جبے کی آستین تنگ ہوگی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبے کے نیچے سے ہاتھوں کو نکالا اور جبے کو اپنے کندھوں پر ڈال دیا، پھر اپنے بازوؤں کو دھویا اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا، پھر (سواری پر) سوار ہوگئے۔