(۲۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ہُرْمُزَ مَوْلَی بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ ابْنَ بُحَیْنَۃَ بْنَ أَزْدِ شَنُوئَ ۃَ ، وَہُوَ حَلِیفٌ لِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَخْبَرَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی بِہِمْ صَلاَۃَ الظُّہْرِ ، فَقَامَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فَلَمْ یَجْلِسْ ، وَقَامَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی إِذَا قَضَی الصَّلاَۃَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِیمَہُ کَبَّرَ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۲۲۴، مسلم ۵۷۰]
(٢٨٠١) عبدالرحمن بن ہرمز جو بنو عبدالمطلب کے غلام ہیں ، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن بحینہ بن ازد شنوئۃ (رض) بنی عبدالمطلب بن عبد مناف کے حلیف تھے اور صحابی رسول بھی تھے ۔ انھوں نے انھیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ظہر کی نماز پڑھائی تو آپ پہلی دو رکعتوں کے بعد سیدھے کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ آپ نے نماز مکمل کرلی اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ نے بیٹھے بیٹھے تکبیر کہہ کر سلام سے پہلے دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا۔