hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2837

.

سنن البيهقي

2837
Sunan Al Bayhaqi
(۲۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ الزُّہْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ کِلاَہُمَا حَدَّثَنِی عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ وَکَانَ عَامِلاً لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ وَہُوَ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: أَیُّہَا النَّاسَ إِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ لِیُسَلِّمَ مِنْ صَلاَتِہِ أَوْ یَتَشَہَّدَ فِی وَسَطِہَا ، فَلْیَقُلْ بِسْمِ اللَّہِ خَیْرِ الأَسْمَائِ ، التَّحِیَّاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ الْمُبَارَکَاتُ لِلَّہِ أَرْبَعٌ ، أَیُّہَا النَّاسُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، التَّشَہُّدُ أَیُّہَا النَّاسُ قَبْلَ السَّلاَمِ ، السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ ، وَلاَ یَقُولُ أَحَدُکُمُ السَّلاَمُ عَلَی جِبْرِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی مِیکَائِیلَ السَّلاَمُ عَلَی مَلاَئِکَۃِ اللَّہِ ، إِذَا قَالَ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ فَقَدْ سَلَّمَ عَلَی کُلِّ عَبْدٍ لِلَّہِ صَالِحٍ فِی السَّمَوَاتِ أَوْ فِی الأَرْضِ ثُمَّ لِیُسَلِّمْ۔ وَلَمْ یَخْتَلِفْ حَدِیثُ ابْنِ شِہَابٍ وَلاَ حَدِیثُ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ قَالَ: الزَّاکِیَاتُ۔ وَقَالَ ہِشَامٌ: الْمُبَارَکَاتُ ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَلاَ أُرَی إِلاَّ أَنَّ ہِشَامًا کَانَ أَحْفَظَہُمَا لِلُزُومِہِ۔ قَالَ الشَّیْخُ: کَذَا رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ۔ وَرَوَاہُ مَالِکٌ وَمَعْمَرٌ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ لَمْ یَذْکُرُوا فِیہِ التَّسْمِیَۃَ وَقَدَّمُوا کَلِمَتَیِ التَّسْلِیمِ عَلَی کَلِمَتَیِ الشَّہَادَۃِ ، وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [منکر]
(٢٨٣٧) عبدالرحمن بن عبدالقاری (عمر بن خطاب (رض) کی طرف سے بیت المال پر عامل مقرر تھے) فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو سنا، آپ لوگوں کو نماز میں تشہد سکھا رہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! جب تم میں سے کوئی اپنی نماز کے آخری تشہد یا درمیانی تشہد میں بیٹھے تو وہ کہے : ” بسم اللہ خیر الاسمآء۔۔۔“ ” اللہ کے نام کے ساتھ جو سب ناموں سے بہترین نام ہے، تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “ اے لوگو ! ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ “ اے لوگو ! تشہد سلام سے پہلے ہے ۔” اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور تمام اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ “ تم میں سے کوئی ” السلام علی جبرائیل ۔۔۔“ ” جبرائیل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، اللہ کے فرشتوں پر سلام ہو “ نہ کہے۔ جب آدمی ” السلام علینا وعلی عباد اللّٰہ الصالحین “ کہتا ہے تو گویا اس نے اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام بھیجا چاہے وہ زمین میں ہوں یا آسمانوں میں ہوں “ پھر اس کے بعد سلام پھیرے۔