(۲۸۴۵) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: سَمِعْتُ ہِشَامَ بْنَ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَیْرِ مَا أَقْرَأُہَا ، وَکَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَقْرَأَنِیہَا ، فَکِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَمْہَلْتُہُ حَتَّی انْصَرَفَ ، ثُمَّ لَبَّبْتُہُ بِرِدَائِہِ ، فَجِئْتُ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی سَمِعْتُ ہَذَا یَقْرَأُ سُورَۃَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَیْرِ مَا أَقْرَأْتَنِیہَا ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اقْرَأْ)) ۔ فَقَرَأَ الْقِرَائَ ۃَ الَّتِی سَمِعْتُہُ یَقْرَأُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَکَذَا أُنْزِلَتْ ۔ ثُمَّ قَالَ لِی: ((اقْرَأْ)) ۔ فَقَرَأْتُ فَقَالَ: ((ہَکَذَا أُنْزِلَتْ ، إِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَئُ وا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ))۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَإِذَا کَانَ اللَّہُ بِرَأْفَتِہِ بِخَلْقِہِ أَنْزَلَ کِتَابَہُ عَلَی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ - مَعْرِفَۃً مِنْہُ بِأَنَّ الْحِفْظَ قَدْ یَزِلُّ لِیُحِلَّ لَہُمْ قِرَائَ تَہُ وَإِنِ اخْتَلَفَ لَفْظُہُمْ فِیہِ - کَانَ مَا سِوَی کِتَابِ اللَّہِ أَوْلَی أَنْ یَجُوزَ فِیہِ اخْتِلاَفُ اللَّفْظِ مَا لَمْ یَحُلْ مَعْنَاہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَلَیْسَ لأَحَدٍ أَنْ یَعْمِدَ أَنْ یَکُفَّ عَنْ قِرَائَ ۃِ حَرْفٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ بِنِسْیَانٍ ، وَہَذَا فِی التَّشَہُّدِ وَفِی جَمِیعِ الذِّکْرِ أَخَفُّ۔
وَقَالَ مَنْ کَلَّمَ الشَّافِعِیَّ: کَیْفَ صِرْتَ إِلَی اخْتِیَارِ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی التَّشَہُّدِ دُونَ غَیْرِہِ؟ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: لَمَّا رَأَیْتُہُ وَاسِعًا وَسَمِعْتُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَحِیحًا کَانَ عِنْدِی أَجْمَعَ وَأَکْثَرَ لَفْظًا مِنْ غَیْرِہِ فَأَخَذْتُ بِہِ غَیْرَ مُعَنِّفٍ لِمَنْ أَخَذَ بِغَیْرِہِ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
قَالَ الشَّیْخُ وَالثَّابِتُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی ذَلِکَ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۴۱۹]
(٢٨٤٥) (ا) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے سنا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام (رض) کو سنا، وہ سورة الفرقان کی تلاوت اس طرح کر رہے تھے جس طرح انھوں نے وہ پڑھی نہیں تھی۔ حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پڑھائی تھی، میں دوران نماز ہی ان پر غصہ ہونے لگا، لیکن میں نے تلاوت مکمل ہونے تک مہلت دی۔
جب وہ سلام پھیر کر فارغ ہوا تو اس کے گلے میں اپنی چادر ڈال کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اس کو سورة الفرقان پڑھتے سنا اور یہ اس طرح تو نہیں پڑھ رہا تھا جس طرح آپ نے مجھے پڑھائی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : پڑھ تو انھوں نے اسی طرح پڑھی جس طرح میں نے انھیں پڑھتے ہوئے سنا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ پڑھ، میں نے پڑھی تو آپ نے فرمایا : ایسے ہی نازل ہوئی ہے۔ پھر فرمایا : یہ قرآن سات قراءت وں میں نازل ہوا ہے۔ ان قراءت وں میں سے جو تمہیں آسان لگے وہ پڑھو۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کررہا ہے کہ اس نے قرآن کو سات حروف میں نازل کردیا تاکہ حفظ میں سولت ہو اور قراءت صحیح ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں تو جب قرآن میں ایسا ممکن ہے تو باقی چیزوں میں اختلافِ لفظی پایا جانا بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ جان بوجھ کر قرآن کی قراءت کو روکے۔ یہ تو تشہد میں ہے اور باقی اذکار میں زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
(د) کسی نے امام شافعی (رح) سے کہا کہ آپ نے تشہد میں ابن عباس (رض) کی حدیث کو پسند کرلیا اور دیگر کو چھوڑ دیا کیوں ؟ امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ جب میں نے اس میں وسعت دیکھی اور وہ میں نے ابن عباس (رض) کی روایت سنی وہ مجھے زیادہ جامع نظر آئی اور دیگر کے الفاظ سے اس کے الفاظ بھی زیادہ ہیں تو میں نے اس روایت کو لے لیا۔
(ہ) شیخ بیہقی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس اور ابو موسیٰ اشعری (رض) کی احادیث ثابت ہے۔