(۲۸۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ یَسَارٍ الْکِلاَبِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو مُطَرِّفٍ: عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ کَرِیزٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْہَاشِمِیُّ عَنِ الْمُجْمِرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَکْتَالَ بِالْمِکْیَالِ الأَوْفَی إِذَا صَلَّی عَلَیْنَا أَہْلَ الْبَیْتِ فَلْیَقُلْ: اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ ، وَأَزْوَاجِہِ أَمُہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ وَذُرِّیَّتِہِ وَأَہْلِ بَیْتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلَی إِبْرَاہِیمَ إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ))۔
فَکَأَنَّہُ -ﷺ- أَفْرَدَ أَزْوَاجَہُ وَذُرِّیَّتَہُ بِالذِّکْرِ عَلَی وَجْہِ التَّأْکِیدِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی التَّعْمِیمِ لِیُدْخِلَ فِیہَا غَیْرَ الأَزْوَاجِ وَالذُّرِّیَّۃِ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ -ﷺ- وَعَلَیْہِمْ أَجْمَعِینَ۔ [ضعیف]
(٢٨٦٦) (ا) سیدنا بوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ اسے اس کے اعمال کا پورا پورا وزن کر کے بدلہ دیا جائے تو وہ جب ہم اہل بیت پر درود بھیجے تو کہے :” اللہم صل علی محمد النبی۔۔۔ ” اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو نبی ہیں اور آپ کی ازواج پر جو امہات المومنین ہیں اور آپ کی اولاد اور آپ کے اہل بیت پر رحمت بھیج جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت بھیجی۔ یقیناً تو تعریف والا بزرگی والا ہے۔
(ب) گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج اور اپنی اولاد کو علی وجہ التاکید علیحدہ ذکر کیا ہے، پھر عام کا لفظ بولا ہے تاکہ اس میں ازواج اور اولاد کے علاوہ اہل بیت کو بھی داخل کردیں اور ان تمام پر رحمت ہو۔