hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 29

.

سنن البيهقي

29
Sunan Al Bayhaqi
(۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَۃَ ہَلْ کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَہِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَۃُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ: ہَلْ شَہِدَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لاَ وَلَکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَفَقَدْنَاہُ ، فَالْتَمَسْنَاہُ فِی الأَوْدِیَۃِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِیرَ أَوِ اغْتِیلَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذْ ہُوَ جَائَ مِنْ قِبَلِ حِرَائٍ فَقُلْنَا: یَا رَسُولِ اللَّہِ فَقَدْنَاکَ فَطَلَبْنَاکَ فَلَمْ نَجِدْکَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ۔ قَالَ ((أَتَانِی دَاعِی الْجِنِّ فَذَہَبْتُ مَعَہُ ، فَقَرَأْتُ عَلَیْہِمُ الْقُرْآنَ)) قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَہُمْ وَآثَارَ نِیرَانِہِمْ ، وَسَأَلُوہُ الزَّادَ فَقَالَ: ((کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ یَقَعُ فِی أَیْدِیکُمْ أَوْفَرَ مَا یَکُونُ لَحْمًا، وَکُلُّ بَعْرَۃٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ)) ثُمَّ قَالَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-: ((لاَ تَسْتَنْجُوا بِہِمَا فَإِنَّہُمَا طَعَامُ إِخْوَانِکُمْ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح أخرجہ مسلم ۴۵۰]
(٢٩) عامر سے روایت ہے کہ میں سیدنا علقمہ سے پوچھا : کیا ابن مسعود (رض) لیلۃ الجن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے یہی سوال سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی ” لیلۃ الجن “ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ موجود تھا ؟ انھوں نے کہا : نہیں ‘ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، ہم نے آپ کو گم پایا، پھر ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا۔ ہم نے سوچا : شاید آپ کو کوئی چیز اڑا لے گئی ہے۔ ہم نے وہ رات بہت مشکل میں گزاری۔ صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غارِ حرا کی طرف سے آئے۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو گم پایا تو آپ کو بہت تلاش کیا۔ لیکن آپ کو نہ ڈھونڈ سکے۔ ہم تمام لوگوں نے رات بہت مشکل میں گزاری۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جنوں میں سے ایک شخص آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا اور ان پر قرآن کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے عرض کیا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں اور ان کے کچھ آثار اور آگ کے نشانات دکھائیں۔ انھوں نے کچھ اور سوال بھی کیے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : ” ہر ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے جو تمہارے ہاتھوں میں ہوتی ہے وہ ان کے لیے گوشت سے بھر پور ہوتی ہے اور ہر مینگنی جو تمہارے جانوروں کے چارے سے بنتی ہے وہ ان کے لیے خوراک سے بھر پور ہوتی ہے۔ “ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دونوں (ہڈی اور مینگنی) کے ساتھ استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہے۔