hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2900

.

سنن البيهقي

2900
Sunan Al Bayhaqi
(۲۹۰۰) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ وَشُعْبَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ: أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَالَ: أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ ، فَإِنَّ فِی الصَّلاَۃِ شُغْلاً، وَسَیَکْفِیکَ ذَاکَ الإِمَامُ۔ وَإِنَّمَا یُقَالُ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ لِمَا یُسْمَعُ لاَ لِمَا لاَ یُسْمَعُ۔ وَقَدْ قَالَ عَلْقَمَۃُ: صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ عَبْدِ اللَّہِ فَلَمْ أَعْلَمْ أَنَّہُ یَقْرَأُ حَتَّی جَہَرَ بِہَذِہِ الآیَۃِ {وَقُلْ رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا} [طٰہ: ۱۱۴] وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الأَسَدِیِّ أَنَّہُ قَالَ صَلَّیْتُ إِلَی جَنْبِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ خَلْفَ الإِمَامِ فَسَمِعْتُہُ یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۳۷۸۰]
(٢٩٠٠) (ا) سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے قراءت خلف الامام کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : قرآن (سننے) کے لیے خاموشی اختیار کر ؛کیونکہ یہ نماز میں شغل ہے اور تجھے امام کی قرات ہی کافی ہے۔
(ب) ” انصت للقرآن “ تب کہا جاتا ہے جب قرآن سنا جا رہا ہو نہ کہ اس وقت جب نہ سنا جا رہا ہو۔ (یعنی جہری قراءت میں آدمی سن سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں) ۔
(ج) علقمہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کے پہلو میں نماز ادا کی، مجھے نہیں پتا کہ انھوں نے قراءت کی ہے حتی کہ انھوں نے سورة طہٰ کی آیت اونچی آواز سے پڑھی (جو مجھے سنائی دی) یعنی { وَقُلْ رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا } [طٰہ : ١١٤] ” کہہ دیجیے ! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔ “
(د) ہمیں عبداللہ بن زیاد اسدی کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے ساتھ کھڑے ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے سنا کہ وہ ظہر و عصر میں (امام کے پیچھے ہی) قراءت کرتے تھے۔