(۲۹۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا کَہْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی الأَزْہَرِ الضُّبَعِیِّ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الْبَرَائِ ، فَذَکَرَ قِصَّۃً وَفِیہَا: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ صَفْوَانَ قَالَ لاِبْنِ عُمَرَ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَفِی کُلِّ صَلاَۃٍ تَقْرَأُ؟ قَالَ: إِنِّی لأَسْتَحْیِی مِنْ رَبِّ ہَذِہِ الْبَنِیَّۃِ أَنْ أَرْکَعَ رَکْعَتَیْنِ لاَ أَقْرَأُ فِیہِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَزَائِدًا ، أَوْ قَالَ فَصَاعِدًا۔
قَالَ یَعْقُوبُ وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الْبَرَائِ نَحْوَہُ۔
فَکَأَنَّہُ کَانَ یَرَی الْقِرَائَ ۃَ خَلْفَ الإِمَامِ فِیمَا یُسِرُّ الإِمَامُ فِیہِ بِالْقِرَائَ ۃِ ، وَعَلَی ذَلِکَ وَضَعَہُ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ بِخِلاَفِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۶۲۶]
(٢٩٠٢) (ا) ابوعا لیہ بر اء سے روایت ہے کہ عبداللہ بن صفوان نے عبداللہ بن عمر (رض) سے پوچھا : اے ابو عبدالرحمن ! کیا آپ ہر نماز میں قراءت کرتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : مجھے اس گھر یعنی بیت اللہ کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ایسی دو رکعتیں پڑھوں جن میں سورة فاتحہ یا اس سے زیادہ نہ پڑھوں۔ ایک روایت میں فزائدا کے الفاظ ہیں دوسری میں فصاعدا کے الفاظ ہیں۔
(ب) گویا وہ قراءت خلف الامام کو صرف ان نمازوں میں درست خیال کرتے تھے جن میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، یعنی سری نمازوں میں ۔ اسی پر مالک بن انس (رض) نے (اپنے مذہب کی) بنیاد رکھی۔ ان سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔