(۲۹۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَالَ: إِنْ قَرَأْتَ فَقَدْ قَرَأَ قَوْمٌ کَانَ فِیہِمْ أُسْوَۃٌ وَالأَخْذُ بِأَمْرِہِمْ ، وَإِنْ تَرَکْتَ فَقَدْ تَرَکَ قَوْمٌ کَانَ فِیہِمْ أُسْوَۃٌ۔
قَالَ: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ یَقْرَأُ۔ [حسن]
(٢٩٠٤) (ا) اسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے قراءت خلف الامام کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : اگر آپ قراءت کریں تو عظیم لوگوں نے بھی قراءت کی ہے جن کی زندگیاں نمونہ ہیں اور ان کی سیرت پر عمل کیا جاتا ہے اور اگر آپ قراءت نہ کریں تب بھی ایسے کئی لوگوں نے قراءت نہیں کی جن کی زندگیاں ہمارے لیے نمونہ ہیں۔
(ب) عبداللہ بن عمر (رض) قراءت نہیں کرتے تھے۔