(۲۹۳۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ الْمُنْتَشِرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ سَمِعْتُ عَبَایَۃَ رَجُلاً مِنْ بَنِی تَمِیمٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَمَعَہَا۔ قَالَ قُلْتُ: أَرَأَیْتَ إِذَا کُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: اقْرَأْ فِی نَفْسِکَ۔
وَمِنْہُمْ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف۔ جہالۃ عین وحال الرجل من بنی تمیم]
(٢٩٣١) ابراہیم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بنو تمیم کے ایک شخص سے سنا جو ہار بنایا کرتا تھا کہ عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید کچھ (قرآن کا حصہ) پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ میں نے کہا : جب میں امام کے پیچھے ہوں تو اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ انھوں نے فرمایا : اپنے دل میں اس (فاتحہ) کو پڑھ لیا کرو۔