(۲۹۴۳) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِی الْحَوَارِی وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَکَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ وَعَلِیُّ بْنُ سَہْلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٌ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ قَالَ: لاَ تَتْرُکْ قِرَائَ ۃَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ جَہَرَ أَوْ لَمْ یَجْہَرْ۔
ہَذَا لَفْظُ کَثِیرٍ
وَزَادَ عَلِیٌّ وَابْنُ أَبِی الْحَوَارِی: وَلَوْ أَنْ تَقْرَأَ وَأَنْتَ رَاکِعٌ۔
زَادَ عَمْرٌو وَحْدَہُ: وَإِنْ کَانَ رَاکِعًا فَاقْرَأْہَا إِذَا عَلِمْتَ أَنَّکَ تُدْرِکَ آخِرَہَا۔
وَمِنْہُمْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]
(٢٩٤٣) (ا) سیدنا ابودرداء (رض) فرماتے ہیں کہ چاہے امام جہری قراءت کرے یا سری ، امام کے پیچھے سورة فاتحہ نہ چھوڑنا۔ یہ بہت سوں کے الفاظ ہیں۔
(ب) علی اور ابن ابی حواری نے اضافہ کیا ہے :” اگرچہ تو پڑھ کر رکوع کرلے۔ “
(ج) اکیلے عمرو نے یہ اضافہ کیا ہے : اگر امام رکوع میں ہو تو سورة فاتحہ پڑھ لے جب کہ تجھے یقین ہو کہ تو اس کو آخر تک پالے گا (یعنی مکمل پڑھ لے گا) ۔
(د) ان میں سے جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بھی ہیں۔