(۲۹۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ وَسَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْعَلاَئِ قَالُوا کَانَ مَکْحُولٌ یَقُولُ: اقْرَأْ فِی الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ سِرًّا۔
قَالَ مَکْحُولٌ: اقْرَأْ بِہَا فِیمَا جَہَرَ بِہَا الإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسَکَتَ سِرًّا وَإِنْ لَمْ یَسْکُتْ قَرَأْتُہَا قَبْلَہُ وَمَعَہُ وَبَعْدَہُ لاَ تَتْرُکَنَّہَا عَلَی حَالٍ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ لِلإِمَامِ سَکْتَتَانِ فَاغْتَنِمُوہُمَا۔ [صحیح]
(٢٩٥٢) (ا) ابن جابر، سعید بن عبدالعزیز اور عبداللہ بن علا (رض) تینوں سے منقول ہے کہ مکحول کہا کرتے تھے : مغرب، عشا اور فجر کی نمازوں کی ہر رکعت میں آہستہ آواز میں سورة فاتحہ پڑھا کرو ۔
(ب) مکحول نے فرمایا : سورة فاتحہ کو ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھ جن میں امام اونچی قراءت کرتا ہے۔ جب امام سورة فاتحہ پڑھے اور خاموش ہوجائے اور اگر امام خاموش نہ ہو تو سورة فاتحہ کی قراءت امام سے پہلے یا امام کے ساتھ یا اس کے بعد کسی بھی وقت کرلے لیکن کسی بھی صورت میں اسے چھوڑنا درست نہیں۔
(ج) ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ امام کے خاموش ہونے کو غنیمت جانو ۔