(۲۹۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنِ نُجَیْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَہُّدِ ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُہُ۔
عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَۃَ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔
وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یُخَالِفُ مَا رَوَاہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَإِنْ صَحَّ ذَلِکَ عَنْہُ فَہُوَ مَحْجُوجٌ بِمَا رَوَاہُ ہُوَ وَغَیْرُہُ عَنْ سَیِّدِنَا الْمُصْطَفَی -ﷺ- الَّذِی لاَ حُجَّۃَ فِی قَوْلِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِہِ مَعَہُ۔ [ضعیف۔ ابن ابی شبیۃ ۸۴۶۹]
(٢٩٦٣) (ا) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب آدمی تشہد کی مقدار نماز میں بیٹھ جائے، پھر (اس کے بعد) بےوضو ہوجائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔
(ب) امیرالمومنین سیدنا علی بن ابی طالب (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انھوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہوسکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔