(۳۰۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ السِّمَرِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی زِیَادٌ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ: سَمِعْتُ خَارِجَۃَ بْنَ زَیْدٍ یَعِیبُ عَلَی الأَئِمَّۃِ جُلُوسَہُمْ فِی صَلاَتِہِمْ بَعْدَ أَنْ یُسَلِّمُوا وَیَقُولُ: السُّنَّۃُ فِی ذَلِکَ أَنْ یَقُومَ الإِمَامُ سَاعَۃَ یُسَلِّمُ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الشَّعْبِیِّ وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُمَا کَرِہَاہُ ، وَیُذْکَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ (ابراہیم نخعی اور شعبی نے اسے ناپسند کیا ہے)]
(٣٠٠٢) ابو زناد بیان کرتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن یزید سے سنا : وہ ان ائمہ کی مذمت کرتے تھے جو نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اسی طرح نماز کی حالت میں ہی بیٹھے رہتے اور فرماتے تھے کہ اس مسئلہ میں سنت طریقہ تو یہ ہے کہ امام سلام پھیرنے کے بعد اٹھ جائے۔