hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3011

.

سنن البيهقي

3011
Sunan Al Bayhaqi
(۳۰۱۱) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} [الاسراء: ۱۱۰] قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَوَارٍ بِمَکَّۃَ ، وَکَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَہُ سَمِعَ الْمُشْرِکُونَ ذَلِکَ فَیَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَہُ ، وَمَنْ جَائَ بِہِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ} [الاسراء: ۱۱۰] حَتَّی یَسْمَعَ الْمُشْرِکُونَ {وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} [الاسراء: ۱۱۰] عَنْ أَصْحَابِکَ فَلاَ تُسْمِعُہُمْ {وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً} [الاسراء: ۱۱۰] أَسْمِعْہُمْ {وَلاَ تَجْہَرْ} [الاسراء: ۱۱۰] حَتَّی یَأْخُذُوا عَنْکَ الْقُرْآنَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ۔ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْجَمِیعُ مُرَادًا بِالآیَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۷۲۲]
(٣٠١١) (ا) سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ آیت { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] اس وقت اتری جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں روپوش تھے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اپنی آواز اونچی کرتے تو مشرکین سن لیتے اور قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے اور لے کر آنے والے سب کو برا بھلا کہتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ } [الاسراء : ١١٠] اپنی آواز کو اپنی نماز میں زیادہ اونچا نہ کرو، حتیٰ کہ مشرکین سن لیں { وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } [الاسراء : ١١٠] اور اس کو اتنا آہستہ بھی نہ پڑھو کہ اپنے ساتھی سے بھی نہ سن سکیں { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً } [الاسراء : ١١٠] ” بلکہ آپ معتدل راستہ اختیار کریں۔ آپ ان کو سنائیں اور آواز اونچی نہ کریں تاکہ وہ آپ سے قرآن لے لیں۔
(ب) یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمام اس آیت سے مراد ہوں۔