(۳۰۲۳) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ہُوَ الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیُّ حَدَّثَنَا مَعْتَمِرٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: جَائَ الْفُقَرَائُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا: ذَہَبَ أَہْلُ الدُّثُورِ مِنَ الأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَی وَالنَّعِیمِ الْمُقِیمِ ، یُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّی ، وَیَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ ، وَلَہُمْ فُضُولٌ مِنْ أَمْوَالٍ یَحُجُّونَ بِہَا وَیَعْتَمِرُونَ وَیُجَاہِدُونَ وَیَتَصَدَّقُونَ۔ فَقَالَ: ((أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِأَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِہِ أَدْرَکْتُمْ مَنْ سَبَقَکُمْ وَلَمْ یُدْرِکْکُمْ أَحَدٌ بَعْدَکُمْ ، وَکُنْتُمْ خَیْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِ ، إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتُمْ ، تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُکَبِّرُونَ خَلْفَ کُلِّ صَلاَۃٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ))۔قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا بَیْنَنَا فَقَالَ بَعْضُنَا: نُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ ، وَنَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ ، وَنُکَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِینَ ، فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((تَقُولُ سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَاللَّہُ أَکْبَرُ حَتَّی یَکُونَ مِنْہُنَّ کُلِّہِنَّ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ النَّضْرِ عَنِ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٠٢٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ محتاج ونادار لوگ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہا : دولت مند اور صاحب ثروت لوگوں نے سارے بلند درجے حاصل کرلیے اور ہمیشہ کا سکھ چین لوٹ لیا۔ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، روزے بھی ہماری طرح رکھتے ہیں، ان کے پاس مال بھی ہے جس کے ساتھ وہ حج کرتے ہیں اور عمرہ، جہاد اور صدقات ادا کرتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں کہ اگر تم اس کو کرو گے تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو گے اور تم کو تمہارے پیچھے والا بھی نہیں پا سکے گا اور تم اپنے زمانے میں سب سے اچھے لوگ شمار ہو گے مگر وہ شخص جو تم جیسا عمل کرے تم پر ہر نماز کے بعد تینتیس، تینتیس بار سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھا کرو۔ پھر لوگوں نے اس حدیث میں اختلاف کیا۔ لوگ کہنے لگے : سبحان اللہ ٣٣ بار، الحمد للہ ٣٣ بار اور اللہ اکبر ٣٤ بار۔ راوی کہتے ہیں : میں ابو صالح کے پاس گیا تو انھوں نے کہا : سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر سب تینتیس تینتیس بار کہو۔