(۳۰۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاکُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: إِنَّ مِنَ السُّنَّۃِ إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ أَنْ لاَ یَقُومَ مِنْ مَوْضِعِہِ الَّذِی صَلَّی فِیہِ یُصَلِّی تَطَوُّعًا حَتَّی یَنْحَرِفَ أَوْ یَتَحَوَّلَ أَوْ یَفْصِلَ بِکَلاَمٍ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَیْسَرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: لاَ یَصْلُحُ لِلإِمَامِ ، وَفِی رِوَایَۃٍ لاَ یَنْبَغِی لِلإِمَامِ۔
وَرُوِّینَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ذَلِکَ وَقَالَ: فَلْیَتَقَدَّمْ أَوْ لِیُکَلِّمْ أَحَدًا۔ [ضعیف]
(٣٠٤٩) (ا) عباد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ جب امام سلام پھیرے تو اپنی جگہ پر نفل پڑھنے کے لیے کھڑا نہ ہو بلکہ رخ بدل لے اور پھر جائے یا بات وغیرہ کرلے۔
(ب) ثوری نے بھی یہ روایت بیان کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا : امام کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ امام کو یہ زیب نہیں دیتا۔
(ج) اور ہمیں ابن عباس (رض) کے واسطے سے اس بارے میں روایت بیان کی گئی ہے کہ امام تھوڑا آگے پیچھے ہوجائے یا کسی سے بات کرلے۔