(۳۰۵۴) وَکَذَلِکَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرٍ الْہِلاَلِیِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ مَکَانَہُ أَوْ رَآہُ فَعَلَہُ۔شَکَّ عَلِیٌّ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ فَرَّقَ فِی ذَلِکَ بَیْنَ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ ، فَکَرِہَہُ لِلإِمَامِ دُونَ الْمَأْمُومِ ، وَإِسْنَادُہُ غَیْرُ قَوِیٍّ۔ [صحیح۔ التاریخ الکبیر ۱۰۴]
(٣٠٥٤) (ا) حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ آدمی اسی جگہ نفل نماز پڑھے۔ اگرچہ وہ کسی کو اس طرح کرتے دیکھ بھی لیں ۔ حضرت علی (رض) کو شک ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلہ میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔