(۳۰۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- حَضَّہُمْ عَلَی الصَّلاَۃِ ، وَنَہَاہُمْ أَنْ یَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِہِ مِنَ الصَّلاَۃِ۔
وَہَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِیثِ الثَّابِتِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ فِی النَّہْیِ عَنْ سَبْقِ الْمَأْمُومِ الإِمَامَ بِالرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِیَامِ وَالاِنْصِرَافِ۔
وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ أَرَادَ بِالاِنْصِرَافِ الْخُرُوجَ مِنَ الصَّلاَۃِ بِالسَّلاَمِ ، وَیُحْتَمَلُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔(ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ التَّکْبِیرُ ، وَانْقِضَاؤُہَا التَّسْلِیمُ ، إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ فَقُمْ إِنْ شِئْتَ۔ [صحیح۔ اصل الحدیث عند مسلم بغیر ہا اللفظ وقد تقدم]
(٣٠٥٦) (ا) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں نماز پر خوب ابھارا (اور امام سے مراد آپ (علیہ السلام) خود ہیں) سے پہلے نماز سے پھرنے سے منع فرماتے تھے۔
(ب) یہ اس حدیث کا مختصرحصہ ہے جو علی بن مسہر سے مختار بن فلفل کے واسطے سے ثابت ہے اور وہ سیدنا انس (رض) سے مقتدی کے امام سے رکوع، سجود، قیام اور پھرنے میں پہل کرنے کی ممانعت کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔
(ج) اور یہاں پر یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ نماز سے انصراف وخروج سے ان کی مراد سلام ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور بھی احتمال ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم
اور ہمیں عبداللہ بن مسعود (رض) کے حواے سے روایت بھی بیان کی گئی۔ وہ فرماتے ہیں : نماز کی چابی (شروع کرنا) تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنا ہے اور اس کا خاتمہ سلام ہے یعنی السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہنا ہے۔ جب امام سلام پھیرے اگر تو چاہے تو کھڑا ہوجا۔