(۳۰۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ سَمُرَۃُ: حَفِظْتُ سَکْتَتَیْنِ فِی الصَّلاَۃِ سَکْتَۃً إِذَا کَبَّرَ الإِمَامُ حَتَّی یَقْرَأَ ، وَسَکْتَۃً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ عِنْدَ الرُّکُوعِ۔
قَالَ: فَأَنْکَرَ ذَاکَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ قَالَ فَکَتَبُوا فِی ذَلِکَ إِلَی أُبَیٍّ بِالْمَدِینَۃِ فَصَدَّقَ سَمُرَۃُ۔
وَقِیلَ عَنْ ہُشَیْمٍ عَنْ یُونُسَ وَإِذَا قَرَأَ وَلاَ الضَّالِّینَ سَکَتَ سَکْتَۃً لَمْ یَذْکُرِ السُّورَۃَ۔
وَقَالَ حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنِ الْحَسَنِ: وَسَکْتَۃً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ۔
وَقَالَ أَشْعَثٌ عَنِ الْحَسَنِ: إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ کُلَّہَا۔
وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا التَّفْسِیرُ وَقَعُ مِنْ رُوَاتِہِ عَنِ الْحَسَنِ فَلِذَلِکَ اخْتَلَفُوا۔ وَیَدُلُّ عَلَیْہِ مَا۔
[ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٠٧٨) (ا) حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ (رض) فرماتے ہیں : مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں : پہلا سکتہ امام کے تکبیر کہنے کے بعد سے قراءت شروع کرنے تک اور دوسرا سکتہ جب امام سورة فاتحہ اور دوسری سورت کی قرات سے فارغ ہوجائے۔
(ب) راوی فرماتے ہیں کہ عمران بن حصین (رض) نے اس کا انکار کیا۔ پھر انھوں نے اس مسئلہ کے بارے خط لکھ کر مدینہ میں حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس بھیجا تو انھوں نے سمرہ (رض) کی تصدیق کی۔
(ج) ایک قول ہیثم سے یونس کے واسطہ سے منقول ہے کہ جب آپ نے { ولا الضآلین } پڑھا تو کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ انھوں نے سورت کا ذکر نہیں کیا۔
(د) حمید طویل حسن کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک سکتہ آپ اس وقت فرماتے تھے جب قراءت سے فارغ ہوتے۔
(ہ) اشعث حسن سے نقل کرتے ہیں کہ جب آپ قراءت سے فارغ ہوتے تو سکتہ کرتے۔
(و) یہاں پر یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تفسیر حسن سے روایت کرنے والوں نے کی ہو۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف ہے اور یہ دلیل ہے۔