(۳۰۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ حِینَ یَفْرُغُ مِنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَائَ ۃِ ، وَیُکَبِّرُ وَیَرْفَعُ رَأْسَہُ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ))۔ثُمَّ یَقُولُ وَہُوَ قَائِمٌ: ((اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ وَسَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، وَاجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ ، اللَّہُمَّ الْعَنْ لِحْیَانَ وَرِعْلاً وَذَکْوَانَ ، وَعُصَیَّۃَ عَصَتِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ))۔ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّہُ تَرَکَ ذَلِکَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ۱۲۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٠٨٥) سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن ; سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں جب قراءت سے فارغ ہوتے تو تکبیر کہتے اور رکوع کرتے ۔ پھر رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے : ” سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ “ پھر قیام کی حالت میں ہی کہتے : ” اللہم انج۔۔۔“ ” اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور و ضعیف مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کے کفار کو اپنی سخت پکڑ سے دو چار کر اور ان پر اس عذاب کی مدت قحط یوسف کی طرح بڑھا دے۔ اے اللہ ! لحیان، رمل اور ذکوان پر پھٹکار بھیج اور عصیہ پر بھی لعنت بھیج جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے قنوت ترک کردی ، یعنی { لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ } [آل عمران : ١٢٨] ” آپ کے پاس کچھ بھی اختیار نہیں (اللہ چاہے) ان کی توبہ قبول کرلے چاہے انھیں عذاب سے دو چار کرے کہ وہ ظالم ہیں۔ “