(۳۰۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَمَا ہُوَ یُصَلِّی الْعِشَائَ إِذْ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ یَسْجُدَ: ((اللَّہُمَّ أَنْجِ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ ، اللَّہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، اللَّہُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شَیْبَانَ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی صَلاَۃَ الْعَتَمَۃِ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ یَحْیَی وَفِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ الْعِشَائَ الآخِرَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٠٨٧) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز پڑھ رہے تھے (اوزاعی نے صلوۃ العتمہ کے لفظ بولے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ” العشاء الآخرہ “ کے الفاظ ہیں) جب آپ نے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو سجدے میں جانے سے پہلے یہ دعا کی : الٰہی ! عیاش بن ابی ربیع کو نجات دے۔ اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ، اے اللہ ! کمزور و لاچار مومنوں کو نجات دے، اے اللہ ! کفار مضر پر اپنا شکنجہ کس دے، اے اللہ ! اس عذاب کو ان پر قحط یوسف کی طرح محیط کر دے۔