(۳۰۹۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رِعْلاً وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِی لِحْیَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَدُوًّا ، فَأَمَدَّہُمْ بِسَبْعِینَ مِنَ الأَنْصَارِ کُنَّا نُسَمِّیہِمُ الْقُرَّائَ فِی زَمَانِہِمْ ، کَانُوا یَحْتَطِبُونَ بِالنَّہَارِ وَیُصَلُّونَ بِاللَّیْلِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَۃَ قَتَلُوہُمْ ، وَغَدَرُوا بِہِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہْرًا یَدْعُو فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ عَلَی أَحْیَائٍ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ ، عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ ، وَبَنِی لِحْیَانَ۔قَالَ أَنَسٌ: فَقَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا ، ثُمَّ إِنَّ ذَلِکَ رُفِعَ: بَلَغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ حَمَّادٍ النَّرْسِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۸۶۲]
(٣٠٩٤) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ رمل، ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان کے لوگوں نے دشمن کے خلاف مدد کی درخواست کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر صحابہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا، ان کو ہم اپنے زمانے کے قراء کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کو قیام کرتے تھے حتیٰ کہ جب یہ بئر معونہ کے مقام پر پہنچے تو ان مذکورہ قبائل نے انھیں شہید کردیا اور ان کے ساتھ دھوکا کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قبائل عرب کے کچھ قبیلوں رمل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے رہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : ہم ان کے بارے میں قرآن پڑھتے رہے۔ پھر یہ حکم اٹھا لیا گیا۔ ہماری قوم کے افراد کو پیغام پہنچ گیا کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے، وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی ہوگئے۔