(۳۰۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَعْقُوبَ الإِیَادِیُّ الْمَالِکِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِی حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: کَانَ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ ثُمَّ یَنْتَحُونَ فِی نَاحِیَۃِ الْمَدِینَۃِ ، یَحْسَبُ أَہْلُوہُمْ أَنَّہُمْ فِی الْمَسْجِدِ ، وَیَحْسَبُ أَہْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّہُمْ فِی أَہْلِیہِمْ ، فَیُصَلُّونَ مِنَ اللَّیْلِ حَتَّی إِذَا تَقَارَبَ الصُّبْحُ احْتَطَبَ بَعْضُہُمْ ، وَاسْتَقَی بَعْضُہُمْ مِنَ الْمَائِ الْعَذْبِ، ثُمَّ یُقْبِلُونَ حَتَّی یَضَعُوا حُزَمَہُمْ وَقِرَبَہُمْ عَلَی أَبْوَابِ حُجَرِ النَّبِیِّ-ﷺ- فَبَعَثَہُمُ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی بِئْرِ مَعُونَۃَ ، فَاسْتُشْہِدُوا کُلُّہُمْ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی مَنْ قَتَلَہُمْ خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَلْقَمَۃُ بْنُ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: فَدَعَا عَلَی مَنْ قَتَلَہُمْ خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً خَمْسَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔وَالرِّوَایَاتُ فِی الشَّہْرِ أَشْہَرُ وَأَکْثَرُ وَأَصَحُّ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ وَأَکْثَرُ الرِّوَایَاتُ عَنْ أَنَسٍ فِی إِثْبَاتِ الْقُنُوتِ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْہُ فِی الْمَغْرِبِ أَیْضًا۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۳/ ۲۳۵]
(٣٠٩٦) (ا) حمید طویل سیدنا انس (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ انصار کے نوجوان غور سے قرآن سنتے، پھر مسجد کے گوشوں میں علیحدہ ہو کر بیٹھ جاتے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ شاید وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے سمجھتے کہ وہ گھر پر ہیں، وہ رات کو نمازیں پڑھتے رہتے حتیٰ کہ جب صبح کا وقت قریب آتا تو بعض لکڑیاں جمع کرنے چلے جاتے بعض تازہ پانی لانے چل پڑتے، پھر وہ واپس آتے اپنی گٹھڑیاں اور مشکیزے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بئر معونہ کی طرف بھیجا تو وہاں ان سب کو شہید کردیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ راتوں تک ان کے قاتلوں پر بددعا کی۔
(ب) اسی طرح اس کو علقمہ بن ابی علقمہ نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا گیا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے قافلوں پر پندرہ دن بددعا کی۔
(ج) اسی طرح جعفر بن محمد نے بھی اپنے والد سے مرسل روایت نقل کی ہے جو پندرہ دن کے بارے میں ہے۔
(د) لیکن مہینہ والی روایات زیادہ مشہور، واضح اور زیادہ صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ اکثر روایات سیدنا انس (رض) سے صبح کی نماز میں قنوت کے اثبات کی ہیں، اسی طرح حضرت انس (رض) سے مغرب کی نماز میں بھی ثابت ہے۔