(۳۱۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی یَحْیَی حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَنَتَ فِی صَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ فِی الرَّکْعَۃِ الأَخِیرَۃِ بَعْدَ مَا قَالَ: ((سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ))۔ شَہْرًا یَقُولُ فِی قُنُوتِہِ: ((اللَّہُمَّ نَجِّ الْوَلِیدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، اللَّہُمَّ نَجِّ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ ، اللَّہُمَّ نَجِّ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ ، اللَّہُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ ، اللَّہُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِینَ کَسِنِی یُوسُفَ))۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ہُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی صَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ شَہْرًا ، یَقُولُ فِی قُنُوتِہِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ ، إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکَرْ عَیَّاشَ بْنَ أَبِی رَبِیعَۃَ وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ یَوْمٍ فَلَمْ یَدْعُ لَہُمْ ، فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ: وَمَا تَرَاہُمْ قَدْ قَدِمُوا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِہْرَانَ الرَّازِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَذَکَرَ عَیَّاشًا وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: ثُمَّ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَرَکَ الدُّعَائَ بَعْدُ ، فَقُلْتُ: أَرَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ تَرَکَ الدُّعَائَ لَہُمْ۔ قَالَ فَقِیلَ وَمَا تَرَاہُمْ قَدْ قَدِمُوا۔ [صحیح۔ مضٰی فی الحدیث ۳۰۸۴، اول الباب]
(٣١٠٠) (ا) سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز کی آخری رکعت میں قنوت پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( (سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ) ) کہنے کے بعد ایک ماہ تک پڑھتے رہے : ” اللہم نجّ الولید بن الولید۔۔۔“ ” الٰہی ولید بن ولید کو نجات دے۔ الٰہی ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ ! عباس بن ابی ربیعہ کو نجات دے اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ ! کافروں پر اپنی پکڑ سخت کر۔ اے اللہ ! ان پر قحط یوسف کی طرح لمبا عرصہ تک عذاب کو مسلط رکھ۔
(ب) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔۔۔ اس میں انھوں نے عیاش بن ابی ربیع کا ذکر نہیں کیا اور اس کے آخر میں اضافہ کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا نہیں کی تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ نے انھیں نہیں دیکھا ، وہ تو کفار سے نجات پا کر آچکے ہیں۔
(ج) امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت بیان کی، مگر انھوں نے عیاش کا ذکر بھی کیا اور اس کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے ان کے لیے دعا کرنی چھوڑ دی ہے۔ آپ نے جواب دیا : کیا تم نے دیکھا نہیں کہ وہ نجات پا کر آچکے ہیں۔