(۳۱۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْبَغَوِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَلِیٌّ یَعْنِی ابْنَ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی یُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَائِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ کَانَ یَقْنُتُ فِی الصُّبْحِ۔
قَالَ عَمْرٌو: فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ: لَمْ یَکُنْ کَأَصْحَابِ عَبْدِ اللَّہِ ، کَانَ صَاحِبَ أُمَرَائٍ ۔
قَالَ: فَرَجَعْتُ فَتَرَکْتُ الْقُنُوتَ۔
فَقَالَ أَہْلُ الْمَسْجِدِ: تَاللَّہِ مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ قَطُّ شَیْئًا لَمْ یَزَلْ فِی مَسْجِدِنَا۔
قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَی الْقُنُوتِ فَبَلَغَ ذَلِکَ إِبْرَاہِیمَ فَلَقِیَنِی فَقَالَ: ہَذَا مَغْلُوبٌ عَلَی صَلاَتِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا مِنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ رَحِمَنَا اللَّہُ وَإِیَّاہُ غَیْرُ مَرْضِیٍّ لَیْسَ کُلُّ عِلْمٍ لاَ یُوجَدُ عِنْدَ أَصْحَابِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَوُجِدَ عِنْدَ غَیْرِہِ لاَ یُؤْخَذُ بِہِ بَلْ یُؤْخَذُ بِہِ إِذَا کَانَ أَعَلَی مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّہِ وَکَانَ الرَّاوِی ثِقَۃً ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی ثِقَۃٌ ، وَقَدْ أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ أَہْلِ الْمَسْجِدِ أَنَّہُ لَمْ یَزَلْ فِی مَسْجِدِہِمْ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَنَّہُ قَنَتَ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۷۱]
(٣١١٩) (ا) عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی لیلی کو حضرت براء (رض) سے حدیث نقل کرتے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
عمرو کہتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی کے سامنے کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ عبداللہ بن مسعود (رض) کے شاگردوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ تو امراء کے شاگردوں جیسے تھے۔ وہ کہتے ہیں : میں واپس لوٹ آیا اور قنوت چھوڑ دی۔ تو مسجد والوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم مسجد میں وہ چیز نہیں دیکھ رہے جو ہمیشہ سے ہماری مسجد میں ہو رہی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ قنوت شروع کردی تو ابراہیم نخعی تک یہ بات پہنچی تو وہ مجھے ملے اور فرمایا : یہ اس کی نماز پر مغلوب ہے۔
(ب) شیخ بیہقی (رح) فرماتے ہیں : یہ ابراہیم نخعی (رح) کا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علم ایسا نہیں ہے کہ علم کی ہر بات عبداللہ بن مسعود (رض) کے شاگردوں کے پاس ہی پائی جائے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس نہ پائی جائے اور اس کو نہ لیا جائے گا بلکہ دوسری کو لیا جائے۔ بلکہ اگر عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں سے زیادہ بلند مرتبہ والے سے روایت ہو اور راوی ثقہ ہو تو اسے لیا جائے گا اور عبدالرحمن بن ابی لیلی ثقہ راوی ہیں۔
عمرو بن مرہ نے اہل مسجد کے بارے میں خبر دی کہ یہ کام (قنوت کا اہتمام) ہمیشہ سے ان کی مسجد میں جاری تھا۔
اسی طرح ہمیں ایک دوسری سند سے سیدنا براء (رض) کی روایت پہنچی ہے کہ انھوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔