(۳۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُوحٍ مِنْ أَوْلاَدِ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی الْحَوْرَائِ عَنْ حَسَنٍ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَلِمَاتٍ أَقُولُہُنَّ فِی الْقُنُوتِ: ((اللَّہُمَّ اہْدِنِی فِیمَنْ ہَدَیْتَ ، وَعَافِنِی فِیمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِی فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا أَعْطَیْتَ ، وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیْتَ ، إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ ، وَإِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ ، وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ))۔کَذَا کَانَ فِی أَصْلِ کِتَابِہِ عَنِ الْحَسَنِ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ فَکَأَنَّ الشَّکَّ لَمْ یَقَعْ فِی الْحَسَنِ وَإِنَّمَا وَقَعَ فِی الإِطْلاَقِ أَوِ النِّسْبَۃِ ، وَکَانَ فِی أَصْلِ کِتَابِہِ ہَذِہِ الزِّیَادَۃُ: وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۱۴۲۵]
(٣١٣٨) سیدنا حسن بن علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چند کلمات سکھائے۔ میں انھیں وتر میں پڑھتا ہوں، وہ کلمات یہ ہیں ” اللہم اہدنی فی من ہدیت۔۔۔“ ” اے اللہ ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا، ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر و برائی کا تو نے فیصلہ کردیا ہے۔ اس سے مجھے محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر کرتا ہے۔ تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوسکتا اور جس کا تو دشمن بن جائے وہ کبھی عزت نہیں پاسکتا۔ ہمارے آقا تو ہی برکت والا اور بلند وبالا ہے۔ “