(۳۱۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عَاصِمٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی النَّجُودِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قُلْتُ لأَبِی: أَرَأَیْتَ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ} ہُوَ الَّذِی یُحَدِّثُ أَحَدُنَا نَفْسَہُ فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ: لاَ وَأَیُّنَا لاَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فِی الصَّلاَۃِ ، وَلَکِنَّ السَّہْوَ تَرْکُ الصَّلاَۃِ عَنْ وَقْتِہَا۔وَقَدْ أَسْنَدَہُ عِکْرِمَۃُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَزْدِیُّ۔ [صحیح لغیرہ]
(٣١٦٢) مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا : ابا جان ! اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟{ الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلاَتِہِمْ سَاہُونَ } [الماعون : ٥] ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ “ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : نہیں، ہم میں سے کون ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو ؟ (یعنی خیالات کو قابو رکھ سکتا ہو ؟ ) لیکن سا ہون میں سہو سے مراد نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا ہے۔