(۳۱۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصْنَعُ فِی أَہْلِہِ؟ فَقَالَتْ: کَانَ یَکُونُ فِی مِہْنَۃِ أَہْلِہِ - قَالَ: تَعْنِی فِی خِدْمَۃِ أَہْلِہِ - فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃُ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۶۴۴]
(٣١٧٠) اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا : گھر کے کام کاج، یعنی اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کام کاج چھوڑ کر نماز کے لیے نکل پڑتے۔