(۳۱۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ خَیْبَرَ سَارَ لَیْلَۃً حَتَّی إِذَا أَدْرَکَہُ الْکَرَی عَرَّسَ ، وَقَالَ لِبِلاَلٍ: ((اکْلأْ لَنَا اللَّیْلَ))۔فَصَلَّی بِلاَلٌ مَا قُدِّرَ لَہُ ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَصْحَابُہُ ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلاَلٌ إِلَی رَاحِلَتِہِ مُوَاجِہَ الْفَجْرِ ، فَغَلَبَتْ بِلاَلاً عَیْنَاہُ وَہُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی رَاحِلَتِہِ ، فَلَمْ یَسْتَیْقِظْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ بِلاَلٌ وَلاَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِہِ حَتَّی ضَرَبَتْہُمُ الشَّمْسُ ، فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوَّلَہُمُ اسْتِیقَاظًا ، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: ((أَیْ بِلاَلُ))۔فَقَالَ بِلاَلٌ: أَخَذَ بِنَفْسِی الَّذِی أَخَذَ بِنَفْسِکَ بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔قَالَ: ((اقْتَادُوا))۔فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَہُمْ شَیْئًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ ، فَصَلَّی بِہِمُ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالَ: ((مَنْ نَسِیَ الصَّلاَۃَ فَلْیُصَلِّہَا إِذَا ذَکَرَہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزْ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلاَۃِ لِذِکْرِی} [طٰہ: ۱۴]))
قَالَ یُونُسُ: وَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقْرَؤُہَا لِذِکْرِی۔
وَفِی حَدِیثِ أَحْمَدَ لِلذِّکْرَی۔
قَالَ یُونُسُ وَکَانَ ابْنُ شِہَابٍ یَقْرَؤُہَا کَذَلِکَ۔
قَالَ أَحْمَدُ قَالَ عَنْبَسَۃُ یَعْنِی عَنْ یُونُسَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ لِذِکْرِی۔قَالَ أَحْمَدُ: الْکَرَی النُّعَاسُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۶۸۰]
(٣١٧٦) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ نے رات کو کوچ کیا، ہمیں نیند آنے لگ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا اور بلال (رض) سے فرمایا : آپ رات کو ہم پر پہرہ دیں۔ بلال (رض) نے نماز پڑھی جو ان کے مقدر میں تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) سو گئے، جب فجر کا وقت قریب آیا، حضرت بلال (رض) سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے ۔ ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ بھی سواری کے ساتھ سہارا لیے ہوئے سو گئے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، بلال (رض) یا آپ کے اصحاب میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا حتیٰ کہ ان پر دھوپ آگئی۔ سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھبرا کر آواز دی : اے بلال ! بلال (رض) نے عرض کیا : اے للہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جس ذات نے آپ پر نیند طاری کی، اسی نے مجھ پر بھی نیند طاری کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہاں سے کوچ کر جاؤ۔ پھر سب نے وہاں سے کچھ فاصلے کے لیے کوچ کیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : { أَقِمِ الصَّلاَۃِ لِذِکْرِی } [طٰہ : ١٤] ” یاد آجانے کے بعد نماز قائم کرو۔ “
(ب) یونس کہتے ہیں : ابن شہاب اس کو لِلذِّکْرِیْ پڑھتے ہیں۔
(د) یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
(ہ) احمد کہتے ہیں : عنبسہ نے یونس کی سند سے ” لذکری “ بیان کیا ہے۔ احمد کہتے ہیں : الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے۔