(۳۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: أَتَانَا عَلِیٌّ وَقَدْ صَلَّی فَدَعَا بِطَہُورٍ ، فَقُلْنَا مَا یَصْنَعُ بِالطَّہُورِ وَقَدْ صَلَّی؟ مَا یُرِیدُ إِلاَّ لِیُعَلِّمَنَا ، فَأُتِیَ بِإِنَائٍ فِیہِ مَائٌ وَطَسْتٍ ، فَأَفْرَغَ مِنَ الإِنَائِ عَلَی یَمِینِہِ ، فَغَسَلَ یَدَہُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، مَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْکَفِّ الَّذِی یَأْخُذُ مِنْہُ الْمَائَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی ثَلاَثًا ، وَغَسَلَ یَدَہُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ جَعَلَ یَدَہُ فِی الإِنَائِ فَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ثَلاَثًا ، وَرِجْلَہُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَعْلَمَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَہُوَ ہَذَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۱]
(٣١٩) عبد خیر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی (رض) آئے، آپ نے نماز پڑھی، پھر پانی منگوایا۔ ہم نے عرض کیا : آپ پانی سے کیا کریں گے حالانکہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے ؟ وہ ہمیں وضو کا طریقہ سکھلانا چاہتے تھے، چنانچہ ایک برتن اور تھال لایا گیا، جس میں پانی تھا۔ آپ نے برتن سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، آپ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑتے جس سے پانی لیتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا : جس کو پسند ہو کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو جانے تو یہی آپ کا وضو ہے۔