(۳۲۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّائِ ، وَالاِحْتِبَائِ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَأَنْ یَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الأُخْرَی وَہُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَی ظَہْرِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔
وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ النَّہْیُ عَنْ أَنْ یَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الأُخْرَی مُسْتَلْقِیًا مِنْ أَجْلِ انْکِشَافِ الْعَوْرَۃِ ، لأَنَّ الْمُسْتَلْقِیَ إِذَا رَفَعَ إِحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الأُخْرَی مَعَ ضِیقِ الإِزَارِ لَمْ یَسْلَمْ مِنْ أَنْ یَنْکَشِفَ شَیْئٌ مِنْ فَخِذَیْہِ ، وَالْفَخِذُ عَوْرَۃٌ ، فَأَمَّا إِذَا کَانَ الإِزَارُ سَابِغًا أَوْ کَانَ لاَبِسُہُ عَنِ التَّکَشُّفِ مُتَوَقِّیًا فَلاَ بَأْسَ بِہِ ، قَالَہُ أَبُو سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ۔ اسْتِدْلاَلاً بِمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٣٢٠٩) (ا) جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” اشتمال صما “ سے منع فرمایا ہے ، یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مارنے اور کمرے کے بل لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھنے سے۔
(ب) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آدمی لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھنے کی ممانعت ستر کے کھلنے کی وجہ سے ہو۔ کیونکہ لیٹنے والا آدمی جب تنگ تہہ بند میں ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسرے پر رکھے تو اس کے ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلے گا وہ سلامت نہ رہے گا اور ران خود ستر ہے۔ پس اگر تہہ بند سلا ہوا ہو یا اس کو پہنے والا ستر کھلنے سے بچتا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ابوسلیمان خطابی نے فرمائی ہے۔