(۳۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ حَمَّادٌ فَحَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ الْحَکَمِ وَعَاصِمٌ الأَحْوَلُ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ یُحَدِّثَہُ عَنْ أَبِی مُوسَی نَحْوًا مِنْ ہَذَا غَیْرَ أَنَّ عَاصِمًا زَادَ فِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ فِی مَکَانٍ فِیہِ مَائٌ قَدْ کَشَفَ عَنْ رُکْبَتَیْہِ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عُثْمَانُ غَطَّاہُمَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔
وَہَذَا لاَ حُجَّۃَ فِیہِ لِمَنْ ذَہَبَ إِلَی أَنَّ الْفَخِذَ لَیْسَتْ بِعَوْرَۃٍ وَکَشْفُہُمَا قَبْلَ دُخُولِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ الرُّکْبَتَیْنِ لَیْسَتَا بِعُورَۃٍ ، وَعَلَی ذَلِکَ دَلَّ أَیْضًا حَدِیثُ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَعَلِیٍّ: أَنَّ السُّرَۃَ لَیْسَتْ بِعَوْرَۃٍ۔وَإِنَّمَا الْعَوْرَۃُ مِنَ الرَّجُلِ مَا بَیْنَہُمَا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۴۹۲]
(٣٢٤٦) (ا) ابوموسیٰ سے اسی جیسی روایت مروی ہے مگر عاصم نے یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسی جگہ تھے جہاں پانی تھا تو آپ نے اپنے گھٹنوں تک کپڑا ہٹایا ہوا تھا ۔ جب عثمان (رض) آئے تو آپ نے انھیں ڈھانپ لیا۔
(ب) اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جن کا موقف ہے کہ ران ستر نہیں ہے اور عثمان (رض) کے داخل ہونے سے قبل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی رانوں کو کھولے ہوئے تھے، بلکہ یہ تو صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گھٹنے ستر میں شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح عمرو بن شعیب اور علی (رض) کی حدیث بھی کہ ناف ستر میں شامل نہیں ہے بلکہ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ مرد کا ستر ان دونوں (ناف اور گھٹنوں) کے درمیان ہے۔