(۳۲۶۲) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَیْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَسَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قُبْطِیَّۃً کَثِیفَۃً أَہْدَاہَا لَہُ دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ ، فَکَسُوتُہَا امْرَأَتِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا لَکَ لاَ تَلْبَسِ الْقُبْطِیَّۃَ؟))۔قُلْتُ: کَسَوْتُہَا امْرَأَتِی۔ فَقَالَ: ((مُرْہَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَہَا غِلاَلَۃً فَإِنِّی أَخَافُ أَنَّ تَصِفَ عِظَامَہَا))۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ من طریق آخر ابن ابی شیبۃ ۲۴۷۹۲]
(٣٢٦٢) محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک موٹی قبطی چادر پہنائی جو انھیں دحیہ کلبی نے تحفہ کی تھی۔ میں نے وہ چادر اپنی زوجہ محترمہ کو پہنا دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے خود کیوں نہیں رکھی ؟ میں نے کہا : میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دی تو آپ نے فرمایا : پھر اس کو کہہ دو کہ اس کے نیچے کوئی بنیان یا شمیض پہن لے مجھے ڈر ہے کہ اس کی ہڈیاں نظر نہ آنے لگیں۔