(۳۳۳۸) وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ الْفَرَّائُ وَقَطَنُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ سُلَیْمَانَ الأَعْمَشِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا اسْتُؤْذِنَ عَلَی الرَّجُلِ وَہُوَ یُصَلِّی فَإِذْنُہُ التَّسْبِیحُ ، وَإِذَا اسْتُؤْذِنَ عَلَی الْمَرْأَۃِ وَہِیَ تُصَلِّی فَإِذْنُہَا التَّصْفِیقُ))۔
وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَتْ لِی سَاعَۃٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِیہَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِنْ کَانَ فِی صَلاَۃٍ سَبَّحَ ، فَکَانَ ذَلِکَ إِذْنَہُ لِی۔
فَہُوَ حَدِیثٌ مُخْتَلَفٌ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ ، فَقِیلَ سَبَّحَ وَقِیلَ تَنَحْنَحَ۔
وَمَدَارُہُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُجَیٍّ الْحَضْرَمِیِّ۔قَالَ الْبُخَارِیُّ فِیہِ نَظَرٌ وَضَعَّفَہُ غَیْرُہُ ، وَفِیمَا مَضَی کِفَایَۃٌ عَنْ رِوَایَتِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [حسن۔ وللحدیث طریق آخر عند احمد ۲/ ۲۹۰]
(٣٣٣٨) (ا) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کسی سے دوران نماز اجازت طلب کی جائے تو اس کا اجازت دینا سبحان اللہ کہنا ہے اور اگر کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اس سے کوئی اجازت طلب کرے تو اس کا اجازت دینا تالی بجانا ہے۔
(ب) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میرے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے کا وقت سحری کے وقت مخصوص تھا۔ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہتے، یہی آپ کی طرف سے مجھے اجازت ہوتی تھی۔
(ج) یہ حدیث سند اور متن کے اعتبار سے مختلف ہے، ایک قول کے مطابق سبح ہے اور دوسرے قول کے مطابق تنحنح ہے۔