(۳۳۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا یُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَعَطَسَ رَجُلٌ إِلَیَّ جَنْبِی فَقُلْتُ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، فَرَمَانِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ فَقُلْتُ: وَاثُکْلَ أُمِّیَاہُ ، مَا لِی أَرَاکُمْ تَنْظُرُونَ إِلَیَّ وَأَنَا أُصَلِّی؟ فَجَعَلُوا یَضْرِبُونَ بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ یُصَمِّتُونِی ، فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الصَّلاَۃَ فَبِأَبِی وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ، وَاللَّہِ مَا کَہَرَنِی وَلاَ سَبَّنِی وَلاَ ضَرَبَنِی ، وَلَکِنَّہُ قَالَ لِی: ((إِنَّ صَلاَتَنَا ہَذِہِ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ ، إِنَمَّا ہُوَ الصَّلاَۃُ وَالتَّسْبِیحُ وَالتَّحْمِیدُ وَقِرَائَ ۃُ الْقُرْآنِ))۔أَوْ کَالَّذِی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ مَا ذَکَرَ الأَوْزَاعِیُّ مِنَ التَّطَیُّرِ وَغَیْرِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یُحْکَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَمَرَہُ بِإِعَادِۃٍ وَحُکِیَ أَنَّہُ تَکَلَّمَ وَہُوَ جَاہِلٌ بِذَلِکَ۔
[صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٣٥٢) (ا) معاویہ بن حکم سلمی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، میرے پہلو میں کھڑے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ لوگ میری طرف دیکھنے لگ گئے۔ میں نے کہا : تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، میں نماز پڑھا رہا ہوں اور تم مجھے دیکھے جا رہے ہو ؟ انھوں نے رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کردیے۔ وہ مجھے خاموش کروانا چاہتے تھے (میں چپ ہوگیا) ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے ، آپ پر میرے والدین قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بڑھ کر مشفق اور مہربان استاد نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے نہ مارا نہ ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ فرمایا : یہ نماز ہے اس میں لوگوں سے ساتھ بات چیت کرنا درست نہیں ۔ یہ صرف تسبیح، تحمید اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت منقول نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ہو کیونکہ اس نے نماز میں ناواقفیت سے کلام کیا تھا۔