(۳۳۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی أَخْبَرَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِیُّ حَدَّثَنَا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی غَزْوَۃٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِی صَلاَتِہِ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللَّہِ رَأَیْنَاکَ تَبَسَّمْتَ۔قَالَ: ((مَرَّ بِی مِیکَائِیلُ وَعَلَی جَنَاحِہِ أَثَرُ غُبَارٍ وَہُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِکَ إِلَیَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَیْہِ))۔ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَیْلِیُّ الْجَزَرِیُّ تَکَلَّمُوا فِیہِ۔
وَقَدْ حَکَاہُ الْوَاقِدِیُّ فِی الْمَغَازِی۔
وَقَدْ رُوِّینَا فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ: فِی مَنْ ضَحِکَ فِی الصَّلاَۃِ یُعِیدُ الصَّلاَۃَ وَلاَ یُعِیدُ الْوُضُوئَ۔
وَرَوِّینَا عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی قِصَّۃٍ مَحْکِیَّۃٍ عَنْہُ: مَنْ کَانَ ضَحِکَ مِنْکُمْ فَلْیُعِدِ الصَّلاَۃَ۔ وَیُذْکَرُ مِثْلُ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ۔ [ضعیف جدا۔ اخرجہ ابو یعلی ۲۰۶۰]
(٣٣٦١) (ا) جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوران نماز مسکرائے۔ جب آپ نے نماز اپنی مکمل کی تو ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس سے میکائیکل (علیہ السلام) گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آرہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔
(ب) ہم کتاب الطہارہ میں ابوسفیان سے جابر (رض) کی روایت بیان کرچکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا۔ یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
(ج) ہم ابو موسیٰ اشعری (رض) سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کرچکے ہیں کہ تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔ اسی طرح کی روایت ابن مسعود (رض) سے بھی ہے۔