(۳۳۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَۃَ فَدَخَلَ عَلَیْہَا ذُو قَرَابَۃٍ لَہَا شَابٌّ ذُو جُمَّۃٍ ، فَقَامَ یُصَلِّی وَیَنْفُخُ فَقَالَتْ: یا بُنَیَّ لاَ تَنْفُخْ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ: ((أَیْ رَبَاحُ تَرِّبْ وَجْہَکَ))۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ مِنَ الأَئِمَّۃِ نَحْوَ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَغَیْرِہِ عَنْ مَیْمُونٍ أَبِی حَمْزَۃَ۔وَلَمْ أَکْتُبْہُ مِنْ حَدِیثِ غَیْرِہِ وَہُوَ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔
وَرُوِیَ فِی حَدِیثٍ آخَرَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا وَہُوَ ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی ۳۸۱]
(٣٣٦٣) ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ میں ام سلمہ (رض) کے پاس تھا، ان کے پاس ان کا کوئی قریبی رشتہ دار آیا۔ اس کے ساتھ اس کا نوجوان بیٹا تھا جس کی پیشانی کے بال گھنے تھے وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا اور پھونکنے لگا تو انھوں نے فرمایا : میرے بیٹے ! پھونکیں مت مار۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حبشی غلام کو کہتے ہوئے سنا کہ اے نوجوان ! اپنے چہرے کو مٹی لگا (یعنی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ) ۔