(۳۴۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مِینَائَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَۃً فَغَسَلَ بِہَا رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، وَأَخَذَ حَفْنَۃً فَغَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی۔
(ق) فَہَذِہِ الرِّوَایَاتُ اتَّفَقَتْ عَلَی أَنَّہُ غَسَلَہُمَا وَحَدِیثُ الدَّرَاوَرْدِیِّ یُحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ مُوَافِقًا لَہَا بِأَنْ یَکُونْ غَسَلَہُمَا فِی النَّعْلِ۔
(ج) وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ لَیْسَ بِالْحَافِظِ جِدًّا فَلاَ یُقْبَلُ مِنْہُ مَا یُخَالِفُ فِیہِ الثِّقَاتِ الأَثْبَاتَ، کَیْفَ وَہُمْ عَدَدٌ وَہُوَ وَاحِدٌ؟
وَقَدْ رَوَی الثَّوْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَا یُوَافِقُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
(٣٤٦) زید بن اسلم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے ایک چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا دایاں پاؤں دھویا پھر ایک چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔
(ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ در اور دی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔
(ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں۔ کیونکہ وہ پوری جماعت ہیں اور یہ اکیلا ہے۔