hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 3484

.

سنن البيهقي

3484
Sunan Al Bayhaqi
(۳۴۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: یَقْطَعُ صَلاَۃَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَ یَدَیْہِ مِثْلُ آخِرَۃِ الرَّحْلِ الْمَرْأَۃُ وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ الأَسْوَدُ ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَیْتَ الْکَلْبَ الأَسْوَدَ مِنَ الْکَلْبِ الأَحْمَرِ مِنَ الْکَلْبِ الأَبْیَضِ؟ قَالَ قَالَ یَا ابْنَ أَخِی إِنِّی سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَمَا سَأَلْتَنِی ، فَقَالَ : ((الْکَلْبُ الأَسْوَدُ شَیْطَانٌ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَسُقْہُ۔ وَہَکَذَا قَالَہُ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ عَنْ حُمَیْدٍ جَعَلَ أَوَّلَ الْحَدِیثِ مِنْ قَوْلِ أَبِی ذَرٍّ ثُمَّ جَعَلَہُ مَرْفُوعًا بِالسُّؤَالِ فِی آخِرِہِ۔ وَأَعْرَضَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ عَنْ الاِحْتِجَاجِ بِرِوَایَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ۔ وَاحْتَجَّ بِہَا غَیْرُہُ مِنَ الْحُفَّاظِ۔ وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِلَی تَضْعِیفِ الْحَدِیثِ فِی ہَذَا الْبَابِ وَخِلاَفُہُ مَا ہُوَ أَثْبُتَ مِنْہُ۔ (ق) فَإِمَّا أَنْ یَکُونَ غَیْرَ مَحْفُوظٍ أَوْ یَکُونَ الْمُرَادُ بِہِ أَنَّہُ یَلْہُو بِبَعْضِ مَا یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ فَیَقْطَعَہُ عَنْ الاِشْتِغَالِ بِہَا لاَ أَنَّہُ یُفْسِدُ الصَّلاَۃَ ، وَہَذَا الَّذِی حَمَلَ الْحَدِیثَ عَلَیْہِ أَوْلَی بِہِ ، فَنَحْنُ نَحْتَجُّ بِمِثْلِ إِسْنَادِ ہَذَا الْحَدِیثِ۔ وَلَہُ شَوَاہِدُ بَعْضُہَا صَحِیحُ الإِسْنَادِ مِثْلُہُ۔ [صحیح۔ تقدم فی الذی قبلہ]
(٣٤٨٤) (ا) سیدنا ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے ابوذر ! کالے رنگ کی وجہ ہے، سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی ؟ ابوذر (رض) نے فرمایا : بھتیجے ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے مخالف روایت اس سے زیادہ ثابت ہے۔ یہ غیر محفوظ ہوگی یا اس سے مراد یہ ہو کہ یہ ان کے سامنے سے گزرتے ہیں تو نماز میں غفلت کا سبب بنتے ہیں اور دھیان کو منقطع کردیتے ہیں نہ کہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اسی پر حدیث کو محمول کرنا بہتر ہے۔
ہم اس حدیث کی اسناد سے دلیل لیتے ہیں اور اس کے بعض شواہد بھی ہیں جو اس کی طرح صحیح الاسناد ہیں۔