(۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ عَلِیٌّ بَیْتِی فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ یَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِیبَہُ حَتَّی وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَقَدْ بَالَ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلاَ أَتَوَضَّأُ لَکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَلْتُ: بَلَی ، فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی۔ قَالَ: فَوُضِعَ لَہُ إِنَائٌ ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ مَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدَیْہِ فَصَکَّ بِہِمَا وَجْہَہُ وَأَلْقَمَ إِبْہَامَیْہِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَیْہِ قَالَ ثُمَّ عَادَ مِثْلَ ذَلِکَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ بِیَدِہِ الْیُمْنَی فَأَفْرَغَہَا عَلَی نَاصِیَتِہِ ، ثُمَّ أَرْسَلَہَا تَسِیلُ عَلَی وَجْہِہِ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ یَدَہُ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ مِنْ ظُہُورِہِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِکَفَّیْہِ مِنَ الْمَائِ فَصَکَّ عَلَی قَدَمِہِ وَفِیہَا النَّعْلُ فَتَلَّہَا ، ثُمَّ عَلَی الرِّجْلِ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ۔ قَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَالَ فَقَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ لاَ أَدْرِی مَا ہَذَا الْحَدِیثُ وَکَأَنَّہُ رَأَی الْحَدِیثَ الأَوَّلَ أَصَحَّ ، یَعْنِی حَدِیثَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ۔
(ق) قَالَ الشَّیْخُ: یُحْتَمَلُ إِنْ صَحَّ أَنْ یَکُونَ غَسَلَہُمَا فِی النَّعْلَیْنِ فَقَدْ رُوِّینَا مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ فِی الْوُضُوئِ۔ مِنْہَا مَا: [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۷]
(٣٥٠) (الف) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ علی (رض) میرے گھر تشریف لائے، آپ (رض) نے پانی منگوایا، ہم ایک پیالہ لے کر آئے جس میں ایک مدیا اس کے قریب پانی تھا، وہ آپ کے سامنے رکھا گیا، سیدنا علی (رض) نے پیشاب کیا اور فرمایا : اے ابن عباس ! کیا میں آپ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کا وضو نہ کروں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ راوی کہتا ہے : آپ کے لیے برتن رکھا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، کلی کی اور اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر کلی کی اور اپنے ہاتھوں سے پانی لے کر اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے انگوٹھوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔ راوی کہتا ہے : پھر اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ پھر پانی کی ایک ہتھیلی اپنے دائیں ہاتھ سے لی تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا، پھر اس کو اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو بھی ایسے ہی دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر پانی کی دو ہتھیلیاں لیں تو ان کو اپنے قدموں پر ڈالا اور جو جوتا پاؤں میں تھا تو اس کو تر کیا۔ پھر دوسرے پاؤں پر بھی ایسے ہی کیا ۔ میں نے کہا : جوتیوں میں ؟ فرمایا : ہاں جو تیوں میں۔ راوی کہتا ہے : میں نے کہا : کیا جوتیوں میں ؟ فرمایا : جوتیوں میں۔ میں نے کہا : جوتیوں میں ؟ فرمایا : جوتیوں میں۔