(۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ الْبَزَّازُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ دَعَا بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -لِلطَّاہِرِ مَا لَمْ یُحَدِّثْ۔
(ق) وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ فِی الْمَسْحِ عَلَی النَّعْلَیْنِ إِنَّمَا ہُوَ فِی وُضُوئٍ مُتَطَوَّعٍ بِہِ لاَ فِی وُضُوئٍ وَاجِبٍ عَلَیْہِ مِنْ حَدَثٍ یُوجِبُ الْوُضُوئَ، أَوْ أَرَادَ غَسْلَ الرِّجْلَیْنِ فِی النَّعْلَیْنِ، أَوْ أَرَادَ الْمَسْحَ عَلَی جَوْرَبَیْہِ وَنَعْلَیْہِ کَمَا رَوَاہُ عَنْہُ بَعْضُ الرُّوَاۃِ مُقَیَّدًا بِالْجَوْرَبَیْنِ ، وَأَرَادَ بِہِ جَوْرَبَیْنِ مُنْعَلَیْنِ فَثَابِتٌ عَنْہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ وَالْوَعِیدُ عَلَی تَرْکِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۰۰]
(٣٥٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر ہلکا وضو کیا، پھر اپنے جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا : اسی طرح پاک آدمی کے لیے وضو ہے جب تک وہ بےوضو نہ ہو۔
(ب) سیدنا علی (رض) سے منقول جوتوں پر مسح کے متعلق روایت نفلی وضو کے متعلق ہے نہ کہ فرض وضو سے متعلق اور پاؤں جوتوں میں دھونے سے مراد موزوں پر مسح کرنا ہے جسے بعض رواۃ جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور جو ربین سے مراد چمڑے والی ہیں اس لیے کہ حضرت علی (رض) سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔