(۳۵۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ قَالَ: سَأَلْتُ نَافِعًا عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّی وَہُوَ مُشَبِّکٌ یَدَہُ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تِلْکَ صَلاَۃُ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ۔
وَحَدِیثُ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ فِی النَّہْیِ عَنِ التَّشْبِیکِ بَیْنَ الأَصَابِعِ بَعْدَ مَا یَتَوَضَّأُ أَوْ بَعْدَ مَا یَدْخُلُ فِی الصَّلاَۃِ مَوْضِعُہُ کِتَابُ الْجُمُعَۃِ۔
وَہُوَ إِنْ ثَبَتَ عَامٌّ فِی جَمِیعِ الصَّلَوَاتِ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۹۹۳۔ ابوداود ۵۶۲]
(٣٥٧٣) (ا) اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نافع سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے نماز پڑھتا ہے، ابن عمر (رض) نے فرمایا : یہ یہودیوں کی نماز ہے۔
(ب) کعب بن عجرہ کی حدیث جو وضو اور نماز شروع کرنے کے بعد انگلیوں میں تشبیک کے بارے میں ہے۔ اس کا مقام کتاب الجمعہ میں ہے۔
(ب) اگر یہ حدیث ثابت ہو تو یہ حکم تمام نمازوں کے لیے ہوگا۔