(۳۵۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُودٍ التَّمِیمِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی یُحِبُّ الْعُطَاسَ وَیَکْرَہُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ وَحَمِدَ اللَّہَ کَانَ حَقًّا عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ یَسْمَعُہُ أَنْ یَقُولَ: یَرْحَمُکَ اللَّہُ ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا ہُوَ مِنَ الشَّیْطَانِ ، فَإِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَرُدَّ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَالَ ہَاہْ ضَحِکَ الشَّیْطَانُ مِنْہُ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۸۷۲]
(٣٥٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو سننے والے مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ یرحمک اللہ کہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اس کو روکنے کی کوشش کرے، کیونکہ تم میں سے جب کوئی جمائی کے وقت آواز نکالتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔