(۳۶۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ الْمُلاَئِیُّ عَنْ زَاذَانَ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ قَالَ: رَأَی عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَمْلَۃً عَلَی ثَوْبِ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَأَخَذَہَا فَدَفَنَہَا فِی الْحَصَی ثُمَّ قَالَ {أَلَمْ نَجْعَلِ الأَرْضَ کِفَاتًا أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا} وَیُذْکَرُ نَحْوُ ہَذَا عَنْ مُجَاہِدٍ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ: یَدْفِنُہَا کَالنُّخَامَۃِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَالِکِ بْنِ یَخَامِرِ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقْتُلُ الْقَمْلَۃَ وَالْبَرَاغِیثَ فِی الصَّلاَۃِ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لاَ بَأْسَ بَقَتْلِ الْقَمْلِ فِی الصَّلاَۃِ وَلَکِنْ لاَ یَعْبَثُ۔
(٣٦٠٩) (ا) ربیع بن خثیم بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے مسجد میں ایک شخص کے کپڑے پر جوں دیکھی تو اس کو پکڑ کر کنکریوں میں دفن کردیا، پھر فرمایا : { أَلَمْ نَجْعَلِ الأَرْضَ کِفَاتًا أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا } [المرسلات : ٢٥۔ ٢٦] ” کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا زندوں کو اور مردوں کو۔ “
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل (رض) کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔